دور حاضر کے تقاضے اور میڈیا کا کردار

1975 میں "نیلام گھر"پہلی مرتبہ پی ٹی وی پر نشر ہوا۔ اس پروگرام کو اس قدر پذیرائی حاصل ہوئی کہ لگاتار 35 برس تک یہ سلسلہ خوب زور وشور سے جاری رہا۔ طارق عزیز کا انداز بیان ناظرین کو مسحور رکھتا تھا اور ملک بھر سے لوگ بھرپور تیاری کے ساتھ طارق عزیز کے دلچسپ سوالات کے جوابات دینے اور انعامات جیتنے کے لے اس شو میں شرکت کرتے تھے۔ یہ ایشیا کا طویل ترین شو تھا جو کئی دہائیوں تک برصغیر کی ٹیلیویژن کی دنیا پہ چھایا رہا۔ بلاشبہ طارق عزیز استادوں کے استاد تھے اور بعد میں آنے والے بہت سے چینلز نے انھی کی پیروی میں بہت سے پروگرام شروع کیے۔ تب سے لے کر اب تک بہت سے تجربات کیے گئے مگر وہ خلا پر نہ ہو سکا کیونکہ نئے پروگرام تفریح تو فراہم کر رہے ہیں مگر معیار میں ابھی بہت پیچھے ہیں۔ اس میں شک نہیں ہے کہ تفریح عوام کی اولین ترجیح رہی ہے مگر اسے وسیع کینوس پر جانچا جائے تو معلوم ہو گا کہ ہمارے جدید گیم شوز میں انعامات کسی قابلیت کی بنیاد پر نہیں بلکہ ناچنے اور تکا لگانے پر ملتے ہیں۔ موٹر بائیک کی خاطر ہماری یوتھ تعلیم سے لا تعلقی اختیار کر کے ڈانس کی پریکٹس کر رہی ہے۔ کیا ہی اچھا ہو اگر کچھ اچھی کتابیں مخصوص کر دی جائیں اور ان گیم شوز میں ان کتابوں سے سوالات پوچھے جائیں۔ اس طرح ہم نئی نسل کو مطالعے کی جانب راغب کر سکتے ہیں۔ مختلف اداروں کے گولڈ میڈلسٹ بچوں کو بھی گاڑی دی جا سکتی ہے۔ بیت بازی کا مقابلہ رکھ کے نوجوانوں میں شاعری کا ذوق بیدار کیا جاسکتا ہے۔ مضمون نویسی یا کہانی نویسی کے ذریعے تخلیقی سوچ کو پروان چڑھایا جا سکتا ہے۔ آخر کیوں ہر تفریحی پلیٹ فارم ناچ گانے سے شروع ہو کر اسی پر ختم ہو جاتا ہے۔ ہمیں جہالت کے لبادے کو اتارنا ہو گا اور فکر کی بنجر زمینوں پر علم کے بیج بونے ہوں گے۔ کتابوں سے دوری اس نسل کا بد ترین المیہ ہے جس کے باعث ہمارا ادب، ہماری زبان ، ہماری ثقافت، ہماری پہچان سب خطرے میں ہیں۔ہم اپنے اقدار کو تو فراموش کر ہی رہے ہیں اس کے ساتھ ساتھ جدید تعلیم سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ شائد ہم بھول چکے ہیں کہ جو قومیں علم کا دامن چھوڑ دیتی ہیں وقت انھیں فراموش کر دیتا ہے۔



Post a Comment

0 Comments